ایمازون کی ’سیلرز لسٹ‘ میں شامل ہونا پاکستان کے لیے ’گیم چینجر‘ کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟

ایمازون کی ’سیلرز لسٹ‘ میں شامل ہونا پاکستان کے لیے ’گیم چینجر‘ کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟

تازہ ترین ٹیکنالوجی

خواتین کے لیے کولہاپوری چپلیں اور کھسہ تیار کرنے والی نیہا ظفر کی خواہش تھی کہ وہ اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے دنیا میں ای کامرس کی سب سے بڑی ویب سائٹ ایمازون پر اپنی چھ سالہ پرانی کمپنی ‘کولھ آرٹ’ کی مصنوعات فروخت کے لیے رکھ سکیں لیکن ان کے لیے خود ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔

اس کی وجہ تھی کہ ایمازون پر مصنوعات فروخت کرنے کی فہرست (‘سیلرز لسٹ’) یعنی اُن ممالک کے فہرست جہاں کے کاروباری افراد اپنی مصنوعات فروخت کے لیے رکھ سکیں، اس میں پاکستان کا نام شامل ہی نہیں تھا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی نیہا ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کئی لوگ تھرڈ پارٹی ذرائع کی مدد سے ایمازون پر اپنی مصنوعات کو فروخت کے لیے رکھ رہے تھے اور اس میں ان کی امریکہ میں مقیم دوست نے بہت مدد کی لیکن ایسا کرنا نہ صرف کافی محنت طلب کام تھا بلکہ اس کے لیے کافی وقت بھی درکار تھا۔

’اس طرح سے وہاں پر اکاؤنٹ قائم کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ ایمازون پر اپنی مصنوعات کی تشہیر کیسے کرنی ہے، اس کے بارے میں لوگوں کو کیسے متوجہ کرنا ہے۔ ایمازون پر آپ صرف ایک جوتا یا چپل نہیں بیچ رہے ہوتے ہیں۔ آپ ایک ہنر، ایک تجربہ، ایک کہانی بیچ رہے ہوتے ہیں۔’

لیکن چھ مئی کو وزیر اعظم کے مشیر برائے کامرس اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کی جانب سے کیا گیا اعلان نیہا ظفر جیسے کئی چھوٹے کاروباری افراد کے لیے کامیابی کی کنجی کی حیثیت رکھتا ہے، اور کئی ماہرین کے اسے پاکستان کے لیے ‘گیم چینجر’ قرار دے رہے ہیں۔

عبدالرزاق داؤد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ‘بالآخر ہم کامیاب ہوئے۔ ایمازون پاکستان کو اپنی ‘سیلرز لسٹ’ میں آنے والے چند دنوں میں شامل کر لے گا۔ ہم گذشتہ سال سے ایمازون سے بات چیت کر رہے تھے اور اب یہ ہو رہا ہے۔ یہ ہماری نوجوان نسل، ہمارے چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروبار (ایس ایم ای) اور خواتین کاروباری شخصیات کے لیے ترقی کا بہت ہی شاندار موقع ہے۔’

اس کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے خود بھی اپنی ٹویٹ میں اس خبر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک بڑی پیش رفت یہ ہےکہ ایمازون نےبالآخر ہمارے تاجروں کو اپنے نظام کےذریعےاشیا کی برآمد کی منظوری دے دی ہے۔‘

جب بی بی سی نے ایمازون سے اس خبر کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا تو کمپنی کے ترجمان نے بذریعہ ای میل جواب دیا کہ ایمازون کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ وہ کاروبار میں وسعت لانے کی غرض سے اپنے شراکت داروں کی تعداد میں اضافہ کرے تاکہ لوگ دنیا بھر میں اپنے بزنس کو ترقی دے سکیں۔

‘ہم مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں نہیں کرتے اور نہ ہی ہمارے پاس اسے بارے میں بتانے کے لیے کچھ ہے۔’

جوتے
نیہا ظفر نے کچھ برس قبل آن لائن کاروبار کا آغاز کیا جس میں وہ خواتین کے لیے کولہاپوری چپلیں اور کھسہ تیار کرتی ہیں

البتہ وزارتِ کامرس کے ذرائع نے بی بی سی کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایمازون نے فہرست میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی تصدیق کر دی ہے اور اگلے چند دنوں میں ایسا ہو جائے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے اس اعلان کو پہلے کرنے کی وجہ تھی کہ وہ کاروبار جو سیلرز لسٹ میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ اپنی تیاریاں شروع کر دیں کیونکہ یہ ترقی کرنے کا ایک بڑا سنہری موقع ہے۔

نیہا ظفر نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ یہ خبر پاکستان میں ترقی اور ای کامرس کی صنعت میں بہتری کے لیے بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن اس کے لیے ابھی ایک لمبا سفر طے کرنا ہوگا۔

‘اپنی مصنوعات کو بیچنے سے پہلے کاروبار چلانے والوں کو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ایمازون پر کامیاب ہونے کے لیے روایتی ذہنیت کو چھوڑ کر سوچنا ہوگا۔ یہ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور ای کامرس کی طرف جا رہی ہے۔ ہمیں اس موقع کا فائدہ اٹھانا ہو گا۔’

ایمازون سیلرز لسٹ ہے کیا؟

سنہ 1994 میں جیف بیزوس کے گیراج سے شروع ہونے والی کمپنی ایمازون اب دنیا کی سب سے بڑی اور اہم ترین ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے لیکن اس کا آغاز ایک آن لائن کتاب بیچنے کی ویب سائٹ کے طور پر ہوا تھا۔

لیکن 27 برس گزرنے کے بعد یہ 22 ارب ڈالر کا کاروبار کرنے والی کمپنی بن چکی ہے جہاں اب صرف کتابیں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے ہر قسم کے سامان کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

اور اسی خرید و فروخت کے لیے کمپنی میں ‘سیلرز لسٹ’ کا استعمال ہوتا ہے جس میں دنیا بھر کے کم از کم 104 ممالک شامل ہیں، جن کے شہری اور کاروباری افراد ایمازون کی ویب سائٹ پر اپنی مصنوعات فروخت کے لیے رکھ سکتے ہیں۔

ایمازون

سال 2020 کے اختتام تک کے اعداد و شمار کے مطابق ایمازون کے 30 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں اور وہ دو سو سے زیادہ ممالک میں سامان کی ترسیل کرتے ہیں، اور سامان بیچنے والوں میں تقریباً 20 لاکھ کے قریب ایس ایم ایز ہیں۔

جنوبی ایشیا سے انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کا نام اس فہرست میں شامل ہے۔

کامرس منسٹری سے منسلک نیشنل ای کامرس کونسل کے سینئیر ممبر بدر خوشنود نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمسایہ ملک انڈیا کے 70 ہزار سے زیادہ چھوٹے کاروبار ایمازون پر رجسٹرڈ ہیں جنھوں نے گذشتہ برس ایمازون پر اپنی مصنوعات کی فروخت کی مدد سے دو ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ‘پاکستان کی مجموعی برآمد 20 سے 22 ارب ڈالر مالیت کی ہے۔ اس میں اگر آپ تصور کریں کہ دو ارب ڈالر کی آمدنی مزید آ جائے تو یہ کل آمدنی کا دس فیصد بن سکتی ہے۔’

ایمازون سیلرز لسٹ پر آنے سے پاکستانی ایس ایم ایز کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

کامرس منسٹری کی سینئیر جوائنٹ سیکریٹری عائشہ موریانی سے بی بی سی نے اس پیش رفت کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایمازون پر جانے کا مطلب ہے کہ آپ ممکنہ طور پر تیس کروڑ صارفین کے سامنے اپنی مصنوعات رکھ رہے ہیں اور پوری دنیا کی مارکیٹ تک کی رسائی ممکن ہو جائے گی۔

‘صرف شمالی امریکہ میں اس کی مدد سے ہونے والی آمدنی 80 ارب ڈالر ہے اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کاروبار اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کی مصنوعات کی بہت مانگ ہے جیسے کپڑے، چادریں، وغیرہ۔’

بدر خوشنود کا اسی سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک بڑی فائدہ مند بات یہ ہوگی کہ ہمارے ملک میں ‘سکلز’ یعنی مختلف نوعیت کی صلاحیت حاصل کرنے میں اضافہ ہوگا۔

ایمازون

وہ کہتے ہیں کہ عمومی طور پر پاکستان میں برآمدات بی ٹو بی، یعنی کاروبار سے کاروبار کرنے والوں کے درمیان ہوتی تھی لیکن ایمازون پر بی ٹو سی، یعنی کاروبار سے صارف کے درمیان سودا ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ خام مال نہیں بلکہ تیار شدہ چیز بیچتے ہیں۔

‘اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنا سامان ایمازون پر بیچنا چاہتا ہو تو اسے اپنی پراڈکٹ کے لیے پیکنگ کا بھی سوچنا ہوگا، معیار کو بھی برقرار رکھنا ہوگا، اس کو پرکشش بنانا ہوگا، تصویر اچھی لگانی ہوگی، اور بھیجنا بھی ایسے ہوگا کہ وہ صارف تک پہنچتے پہنچتے خراب نہ ہو جائے۔ گویا یہ کہ بہت سارے لوگوں کو اس ایک فیصلے سے نہ صرف اپنے صلاحیتوں میں اضافے کا موقع ملے گا بلکہ انھیں نوکری کے ذرائع میسر آئیں گے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔’

لیکن پاکستان اس فہرست میں پہلے کیوں نہیں تھا؟

آبادی کے اعتبار سے دنیا کے چھٹے سب سے بڑے ملک ہونے کے ناطے کئی لوگوں کے لیے یہ ایک حیران کن امر تھا کہ پاکستان اب تک ایمازون کی اس فہرست میں شامل نہیں تھا لیکن شاید زیادہ لوگوں کو یاد نہیں ہو گا کہ پاکستان 2013 تک اس فہرست کا حصہ تھا۔

بدر خوشنود نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ آٹھ سال قبل پاکستانی کاروبار اس فہرست میں اپنا نام درج کرا سکتے تھے لیکن بد قسمتی سے چند ایسے عناصر تھے جنھوں نے ایمازون کے اس نظام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی اور ان جیسی مختلف وجوہات کی بنا پر پاکستانی کمپنیوں پر اعتماد میں کمی آتی گئی اور دیگر حالات کی بنا پر پاکستان کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا۔

عائشہ موریانی سے جب اس بابت پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایمازون کے سامنے یہی سوال رکھا۔

‘ہم نے ان سے پوچھا کہ پاکستان اس فہرست میں ابھی تک کیوں نہیں ہے حالانکہ پاکستانی کاروبار کسی نہ کسی طریقے سے، بیرون ملک دفاتر قائم کر کے اپنی مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ ایمازون کی پالیسی ٹیم تک گیا اور اب بہت جلد پاکستان اس فہرست کا حصہ بن جائے گا۔’

کیا سیلرز لسٹ کا حصہ بننے سے فوراً مالی فائدہ ہونا شروع ہو جائے گا؟

ایمازون

نیہا ظفر کہتی ہیں کہ پاکستان میں بدقسمتی سے ابھی تک لوگ دقیانوسی، روایتی طرز عمل پر توجہ دیتے ہیں اور تجربات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فہرست میں آنے سے شاید فوری طور پر تبدیلی تو نہیں آئے گی لیکن اس کی مدد سے راستے ضرور کھل جائیں گے۔

ایمازون سیلرز لسٹ پر تحقیق اور حال ہی میں اس پر مضمون شائع کرنے والی صحافی ضحیٰ صدیقی نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں کہا کہ جہاں پاکستانی ایس ایم ایز کے لیے یہ ایک جانب یہ نہایت ہی اہم خوش خبری ہے، دوسری جانب ابھی اس پورے سلسلے کو کامیاب بنانے کے لیے ایک طویل سفر کرنا باقی ہے۔

‘یہ محض پہلا قدم ہے، اس فہرست میں آنا۔ اس کے بعد اس پلیٹ فارم کو استعمال کرنا، اور اس کے پوری طرح فوائد اٹھانے کے لیے بہت سے دیگر اقدامات لینے ہوں گے۔’

ضحیٰ صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کاروبار اور برآمدات کے مجموعی نظام میں اصلاحات لانے کی اشد ضرورت ہے۔

دوسری جانب، عائشہ موریانی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کو کامیاب کرنا اس بات پر منحصر ہو گا کہ اسے استعمال کرنے والوں کی تربیت کی جائے اور انھیں ان صلاحیتوں سے متعارف کرایا جائے جسے استعمال کر کے لوگ سیلرز لسٹ میں خود کو درج کرا کر اپنی مصنوعات کی اچھے سے تشہیر کر سکیں اور انھیں بیرون ملک بھیج سکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان مختلف اداروں سے مل کر اس حوالے سے کام کر رہی ہے۔

سیلرز لسٹ میں آنے کے بعد ترقی کے زینے پر چڑھنے میں رکاوٹیں کیا ہیں؟

نیہا ظفر سے جب پوچھا گیا کہ انھیں ایمازون پر کاروبار کرنے میں سب سے زیادہ کس چیز کا ڈر ہے، تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ممکنہ طور پر سب سے بڑا چیلنج فروخت کی گئی مصنوعات کے عوض رقم شفاف طریقے سے حاصل کرنے کی پریشانی ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، چمڑے کی مصنوعات بنانے والی کمپنی ہب لیدر کے سی ای او اسفندیار فرخ نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ کاروبار کرنے والے افراد کو سامان کی بیرون ملک ترسیل کرنے اور آمدنی پر لگنے والے ٹیکس کی مد میں کافی خدشات ہیں۔

ایمازون

ہم پاکستان سے سامان کورئیر کی مدد سے بھیجتے ہیں جو کہ کافی مہنگا پڑتا ہے۔ یہاں پر ہمارے پاس پاکستان پوسٹ جیسی سہولیت میسر ہے جس پر اگر کام کیا جائے، اور وہ ہونا شروع ہو گیا ہے، تو اس کی مدد سے ہمارا ترسیل کا نظام بہت بہتر ہو سکتا ہے۔

’چین نے بھی اسی طرح اپنے سرکاری محکمہ چائنا پوسٹ پر کام کیا اور اب وہ بہت ہی قلیل رقم کے عوض سامان چین سے امریکہ بھیجتے ہیں۔ ایسا ہی ہم پاکستان پوسٹ کے ساتھ کر سکتے ہیں۔’

آمدنی پر ٹیکس کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسفندیار کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ڈر ہے کہ ان کی آمدنی پر بھاری شرح سے ٹیکس لگ سکتا ہے اور اس چیز کو قابو میں رکھنا ہوگا۔

‘ہمیں قلیل مدتی اہداف حاصل کرنے کی ذہنیت سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ ای کامرس کی صنعت کو بڑھایا جائے، اس کی نشونما ہوگی تو پھر ہی یہ مستقبل میں فائدہ دے سکے گا۔ اگر آغاز میں ہی زیادہ ٹیکس لگا دیا جائے تو یہ بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس بات کو سمجھیں کہ دوسرے ممالک نے کیسے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی، ان سے سبق سیکھیں۔’

اپنے خدشات کے بارے بات کرتے ہوئے بدر خوشنود نے بھی انھی خیالات کی تائید کی اور کہا کہ عام طور پر کسی نئی صنعت یا نئے سیکٹر کو قیام کے وقت سبسڈائز کیا جاتا ہے اور اس پر یا تو بالکل نہیں، یا بہت قلیل ٹیکس لگایا جاتا ہے۔

ایمازون

 

میں سمجھتا ہوں کہ اس فیصلے کی کامیابی کا بڑا انحصار دو اداروں پر ہے۔ سٹیٹ بینک اور ایف بی آر۔ سٹیٹ بینک تو بہت مدد کر رہا ہے اور ایسے اقدامات کر رہا ہے کہ ای کامرس کی صنعت کو بڑھایا جائے اور اس میں بہتری آئے لیکن ایف بی آر کو اس بارے میں سوچنا ہوگا کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ ڈیجیٹل اکانومی کیسے کام کرتی ہے، ان کے پاس ایسے لوگ ہوں جو ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں۔’

جوائنٹ سیکریٹری عائشہ موریانی کا اس بارے میں موقف تھا کہ برآمدات پر ویسے ہی ٹیکس کی شرح بہت کم ہے اور وزارت کامرس اس سلسلے میں محکمہ فنانس سے رابطے میں ہے کہ وہ ایسی ہی چھوٹ ای کامرس سیکٹر کے لیے بھی فراہم کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بڑا قدم اس حوالے سے لیا گیا ہے کہ جب پاکستان کا نام سیلرز لسٹ میں آ جائے گا تو پاکستان میں مقیم کاروباری اور انفرادی افراد اپنے مقامی بینک میں ہی براہ راست بیرون ملک سے رقم وصول کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان ایمیزون کی منظور شدہ سیلر لسٹ میں شامل

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *