سعودی عرب میں کورونا وائرس کی بھارتی قسم بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خدشہ

بین اقوامی تازہ ترین کورونا

سعودی عرب میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے ختم کی جانے والی نئی پابندیاں لگا دی گئیں نئی پابندیوں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ کورونا کی بھارتی قسم ڈیلٹا کے پھیلاﺅ کے متعددکیس سامنے آنے کے بعد عائدکرنے کا اعلان کیا گیا ہے. عرب نشریاتی ادارے کے مطابق سعودی عرب کے مارکیٹوں میں داخلے کے لیے کورونا ویکسی نیشن کی پابندی کا اطلاق آج سے ہو گا سعودی عرب میں کورونا ویکسی نیشن کے حوالے سے ڈیڈ لائن ختم ہو گئی جس کے بعد اب بازاروں اور عوامی مقامات پر ویکسین لگوانے والے ہی جا سکیں گے.

سعودی وزارت تجارت کے ترجمان عبدالرحمن الحسین کا کہنا ہے کہ یکم اگست سے توکلنا ایپ پر”ویکسینیڈڈ“ کے اسٹیٹس کے حامل افراد ہی بازاروں میں داخل ہو سکیں گے اس کے علاوہ دیگر افراد کو بازاروں میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی سعودی حکام نے خبردار کر دیا ہے کہ یکم اگست 2021 سے ہر وہ شخص جس نے ویکسین نہیں لگوائی وہ سرکاری، نجی اداروں کے علاوہ بازاروں، ہوٹلوں اور دیگر تجارتی اداروں میں داخل نہیں ہو سکے گا.

وزارت تجارت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس پالیسی پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنائیں خیال رہے کہ اس سے قبل سرکاری و نجی اداروں کے علاوہ بازاروں اور تجارتی مقامات پر”توکلنا“ایپ کے بغیر داخلہ منع تھا تاہم اب اس قانون میں ویکسی نیشن کی شرط بھی عائد کردی گئی ہے واضح رہے کہ سعودی وزارت داخلہ نے گزشتہ روزکہا تھا کہ مملکت میں تجارتی مراکز اور پبلک مقامات میں داخلے کے لیے کورونا ویکسین لگوانے کی شرط لازمی قرار دی گئی ہے اور آج اتوار سے ملک بھر میں تجارتی مراکز اور کسی بھی نوعیت کی تقریب میں شرکت کے لیے کرونا کی ویکسین لازمی قرار دی گئی ہے.

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیاتھا کہ عوامی نقل وحمل کو استعمال کرنے کی صورت میں یکم اگست پبلک مقامات اور سرگرمیوں میں شرکت کے لیے ویکسین لازمی قرار دی گئی ہے وزارت داخلہ نے”ٹویٹر“ اور”اسنیپ چیٹ“ پر اپنے اکاﺅنٹ کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ کسی بھی معاشی، تجارتی، ثقافتی، تفریحی یا کھیلوں کی سرگرمی، یا کسی بھی ثقافتی، سائنسی، سماجی یا تفریحی تقریب یا کسی سرکاری یا نجی سہولت میں داخلے کے لیے چاہے وہ کاروبار کرنا ہو، آڈٹ کرنا ہو، یا کوئی سرکاری یا نجی تعلیمی سہولت ہو، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے وقت، شہریوں اور رہائشیوں کے حفاظتی ویکسین لگوانے کو یقینی بنایا جانا اور ”توکلنا“ ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کرانا ضروری ہے.

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ ہر شہری احتیاطی تدابیر پر عمل کرے اور صحت کی ضروریات کے اطلاق میں سستی کا مظاہرہ نہ کیا جائے اورتمام شہری تقریبات میں شرکت کے موقعے پر سماجی دوری، ماسک پہننے، ہاتھوں کو جراثیم کش مواد سے صاف کرنے اور صحت کے منظور شدہ پروٹوکول پر عمل درآمد یقینی بنائیں. ادھر برطانیہ میں مقیم ایک عرب صحافی نے اپنے مضمون میں انکشاف کیا ہے ریاض میں بہت سارے معاملات کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے لکھا ہے کہ بھارت سے مسافروں کی آمدورفت کو بند کرنے میں شعوری طور پر تاخیرکی گئی اسی طرح سعودی عرب نے کھانے پینے کی اجناس جو بھارت سے منگوائی جاتی ہیں ان کی سپلائی کو بھی بھارت میں ڈیلٹا کے کیس سامنے آنے کے بعد نہیں روکا جس کی وجہ سے مملکت میں بڑے پیمانے پر ”ڈیلٹا“کا پھیلاﺅ ہورہا ہے مگر سعودی حکومت اسے خفیہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے.