قومی اسمبلی، تیسرے دن بھی مفلوج،

قومی اسمبلی، تیسرے دن بھی مفلوج، پھر مار کٹائی

تازہ ترین سیاست قومی

اسلام آباد(ایجنسیاں‘ٹی وی رپورٹ) قومی اسمبلی تیسرے روز بھی مفلوج ‘حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں پھرمارکٹائی ‘بدمزگی برقرار‘ ایوان کا ماحول انتہائی کشیدہ رہا، سینی ٹائزر کی بوتل لگنے سے پی ٹی آئی رکن اکرم چیمہ زخمی ہوگئے

 اپوزیشن لیڈر شہبازشریف تقریر مکمل نہ کرسکے‘اسد قیصر نے ضابطہ اخلاق کی تشکیل کیلئے حکومت اور اپوزیشن سے 6،6نام مانگ لئے ‘ حزب اختلاف نے نام دینے سے انکار کردیا‘ اسپیکر قومی سمبلی نے ہنگامہ آرائی میں ملوث مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے 3،3جبکہ پیپلزپارٹی کے ایک رکن کے ایوان میں داخلے پر پابندی لگا دی‘جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں علی نواز اعوان، عبدالمجید خان، فہیم خان، شیخ روحیل اصغر، علی گوہر خان، چوہدری حامد حمید اور آغا رفیع اللہ شامل ہیں۔پابندی کے فیصلے کے بعدایوان میں موجود2ارکان شیخ روحیل اصغر اورآغا رفیع اللہ کو باہر نکال دیا گیا۔

متحدہ اپوزیشن نے پابندی کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ادھر وزیراعظم سےا سپیکر اسد قیصر نے ملاقات کی جس میں وزیراعظم کو گزشتہ روز کی ہنگامہ آرائی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں وزرا، حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے 50 سے زائد افراد کے نام شامل تھے‘ وزیر اعظم نے ایوان میں نئے اصول و ضوابط متعارف کروانے کا فیصلہ کرلیا جبکہ بلاول بھٹو اورشہباز شریف کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں بجٹ سیشن کے حوالے سے لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی۔

ادھراسد قیصر نے بدھ کو شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فون پر بات کی جس میں بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کے ماحول کو سازگار رکھنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قومی اسمبلی اجلاس آج 12بجے تک کیلئے ملتوی کردیاگیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے مسلسل تیسرے روز بجٹ پر اپنی نامکمل تقریر شروع کی جو ایک مرتبہ پھر مکمل نہ ہوسکی۔شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسپیکر صاحب آپ نے قانون کے مطابق ایوان کو چلانا ہے مگر عمران خان نیازی کے حکم پر جو گالی گلوچ کی گئی، روایات کی دھجیاں اڑائی گئیں، بدزبانی کی گئی اور ایسے الفاظ ادا کیے گئے جو زبان پر لانا مشکل ہے۔ آپ کا فرض تھا کہ آپ اس طوفان بدتمیزی کو روکتے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔بدزبانی کو نہ روکا گیا تو کل کو قائد ایوان کے خطاب کے موقع پر ہم سے کسی قسم کی توقع نہ رکھی جائے۔شہباز شریف نے کہا کہ اگر آپ اتنے بے بس ہیں تو مجھے اس پر افسوس ہے۔ان کی تقریر جاری تھی کہ اپوزیشن کی عقبی نشستوں سے کسی نے سینی ٹائزر کی بوتل پھینکی جو خواتین ارکان کے سروں سے ہوتی ہوئی اکرم چیمہ کو جالگی اوران کا خون نکل آیا ‘اس زخم کودیکھ کر تحریک انصاف کے رکن عطاء اللہ اشتعال میں آگئے اور انہوں نے بھی سینی ٹائزر کی بوتل اپوزیشن ارکان کو دے ماری تاہم اپوزیشن ارکان محفوظ رہے۔

ہنگامی طورپر ملازمین نے ایوان سے تمام سینی ٹائزر بوتلیں اکٹھی کرلیں۔دریں اثناءبلاول بھٹونے شہباز شریف سے ان کے چیمبر میں جاکر ملاقات کی اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کل کے واقعے سے جگ ہنسائی ہوئی، وزراکا رویہ سب نے دیکھ لیا ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ تاریخ میں حکومتی بینچز سے ایسا تشدد نہیں ہوا ، وزیراعظم بچوں کی طرح اپنے وزرا کو ہدایات دے رہے ہیں‘اپوزیشن سے مل کرپلان بنارہے ہیں۔ادھر ذرائع کا کہنا ہےکہ متحدہ اپوزیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکے خلاف تحریک عدم اعتماد لانےکا فیصلہ کیا ہے۔عدم اعتماد کے لیے متحدہ اپوزیشن کا کمیٹی تشکیل دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور اراکین کے داخلے پر پابندی کے بعد حکومت اوراپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کا با ضابطہ رابطہ ہوا، جس میں ایوان کے ضابطہ اخلاق تیار کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومت کی چار رکنی کمیٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اراکین سے ملاقات کی، پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر،علی محمدخان، خالد مگسی، اقبال محمد علی نے اپوزیشن رہنمائوں سے ملاقات کی جس میں ایوان کی کارروائی آگے بڑھانے کیلئے ضابطہ اخلاق پر گفتگو اور کمیٹی تشکیل دینے پر زور دیا۔