پاکستان میں پہلی الیکٹرک بائیک متعارف کرادی گئی

پاکستان میں پہلی الیکٹرک بائیک متعارف کرادی گئی

تازہ ترین ٹیکنالوجی

جولٹا الیکٹرک کا دعویٰ ہے کہ ان کی بنائی ہوئی الیکٹرک موٹر سائیکل پیٹرول سے چلنے والی 70 سی سی موٹر سائیکل کے مقابلے میں فیول کی مد میں 4 ہزار روپے کی بچت کریگی۔ ہونڈا 70 سی سی موٹر سائیکل کی 90کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہے تاہم جولٹا الیکٹرک بائیک کی زیادہ سے زیادہ رفتار 60 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر جولٹا ای بائیک متعارف کرائی۔

جولٹا الیکٹرک کے چیئرمین محمد اعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے نچلی سطح الیکٹرک بائیک متعارف کرائی ہے، تاہم ہمارے پاس اوپری سطح کی بائیکس جو 150 سی سی بائیکس کے مقابلے پر ہوں گی اور اس کے بعد تھری وہیلر (جیسا کہ الیکٹرک رکشہ) اور الیکٹرک کار (چار پہیوں والی) بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے نہ ہونے کے برابر ڈیوٹیز مخصوص الیکٹرک پارٹس پر (ایک فیصد) اور ٹیکسز (ایک فیصد سیلز ٹیکس) نے ہمارے لئے اس قیمت میں عام لوگوں کیلئے سستی الیکٹرک بائیک متعارف کرانا ممکن بنایا۔

نیشنل سیلز ہیڈ محمد سہیل خان نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی موٹر سائیکلیں جو بالکل 70 سی سی بائیکس جیسی دکھتی ہیں، کی قیمت 82 ہزار 500 روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خواتین کیلئے ای اسکوٹی بھی فروخت کررہے ہیں، جس کی قیمت ایک لاکھ 5 ہزار روپے ہے، اسی طرح جلد ہی 125سی سی موٹر سائیکل کے مقابلے میں ایک بائیک متعارف کرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد: لڑکی اور لڑکے پر تشدد، ویڈیو میں نظر آیا پستول برآمد

کمپنی حکام کے مطابق جولٹا کی ای بائیکس کی حد 80 کلو میٹر سے 100 کلو میٹر کے درمیان ہوگی جس کا دار و مدار اسپیڈ اور سڑکوں کی صورتحال پر ہوگا۔

سہیل خان کا مزید کہنا ہے کہ اس گاڑی کی بیٹیریوں (12 والٹ کی 5 ڈرائی بیٹریاں) کی تین ماہ کی وارنٹی ہوگی اور اوسطاً 2 سال تک چلیں گی۔ موجودہ قیمت کے مطابق یہ بیٹیراں 20 ہزار روپے میں تبدیل کرائی جاسکتی ہیں۔

سہیل خان نے بتایا کہ کمپنی فی الحال 6 ہزار ای بائیک بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے جسے آئندہ چند ماہ میں 10 ہزار یونٹس تک بڑھایا جائے گا، اس بائیک کی سواری مکمل طور پر ماحول دوست ہے اور اس سے نوائس پولوشن (شور شرابہ) بھی نہیں ہوگا جبکہ فیول کی مد میں لوگوں کو بچت بھی ہوگی۔

نیشنل سیلز ہیڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے 70سی سی بائیک کے فیول کے استعمال اور مینٹی ننس پر اٹھنے والے اخراجات کا مشاہدہ کیا ہے، ایک متوسط شخص ہر ماہ تقریباً 4 ہزار روپے ماہانہ فیول اور مینٹی ننس کی مد میں 70 سی سی بائیک پر خرچ کرتا ہے، تاہم ای بائیک کی مینٹی ننس لاگت انتہائی کم ہوگی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تیار کردہ موٹر سائیکل کے الیکٹرک جیسی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ ایک یونٹ بجلی میں چارج ہوجائیگی۔ ایک یونٹ بجلی کی قیمت 17 سے 25 روپے کے درمیان ہے۔ سہیل خان نے کہا کہ ایک شخص زیادہ سے زیادہ 25 روپے میں تقریباً 80 سے 100 کلو میٹر مائیلیج حاصل کرے گا۔

موٹر سائیکل کی صنعت پر نظر رکھنے والے آٹو سیکٹر کے ایک ماہر صابر شیخ نے بتایا کہ دنیا بھر میں الیکٹرک بائیکس کے خدوخال مختلف ہیں، الیکٹرک بائیک ہلکی اور الیکٹرک موٹر کی ضروریات کے مطابق مختلف ایروڈائنامکس کی ہوتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں ان الیکٹرک بائیکس میں فیول ٹینک کس مقصد کیلئے ہوگا؟۔

تاہم جولٹا الیکٹرک کے سہیل خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لوگوں کیلئے 70 سی سی کے جیسا عام شیپ لوگوں کیلئے قابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ان کے خیال میں یہ بائیک فیول ٹینک کے ساتھ ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ موٹر سائیکل کی روایتی شکل ان کیلئے قابل قبول ہے‘‘۔