ہفتے میں بلڈ پریشر کا مرض ختم۔

تازہ ترین صحت

عالمی ادارہء صحت کی ڈائریکٹر مارگریٹ چین کے مطابق پاکستان میں 18 فیصد بالغان اور 45 سال سے زیادہ عمر کے 33 فیصد لوگوں کو بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کی بیماری لاحق ہے۔ بدقسمتی سے صرف 50 فیصد کیسز میں ہی تشخیص ہو پاتی ہے، اور ان میں سے بھی صرف آدھے کیسز میں علاج کروایا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف 12.5 فیصد کیسز کو باقاعدہ طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ہمیں اس فرق کو ختم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگاآئیں سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ بلڈ پریشر ہے کیا۔ 120/80 mmHG کے بلڈ پریشر کو نارمل تصور کیا جاتا ہے جبکہ 135/85 mmHG باعثِ تشویش ہوتا ہے کیونکہ ریڈنگ اس سے زیادہ ہونا ہائی بلڈ پریشر کہلاتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر سے نجات کے لیے سات بہترین غذائیں پیتھولوجی (یعنی آپ کے جسم کے اندر کیا ہو رہا ہے) کے نظریے سے دیکھیں تو ہائی بلڈ پریشر کا مطلب ہے کہ جب آپ کا دل جسم میں خون پمپ کرتا ہے، تو آپ کی شریانوں پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔ یہ زیادہ دباؤ تب پڑتا ہے جب آکی شریانیں سکڑ کر چھوٹی ہوجائیں یا آپ کے جسم میں خون زیادہ ہوجائے۔اس بارے میں سب ہی جانتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر نمک کے زیادہ استعمال اور ذہنی تناؤ سے منسلک ہے، اس لیے پڑھنے والوں کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ ہائی بلڈ پریشر معمولاتِ زندگی میں خرابی جیسے کھانے پینے میں بے اعتدالی، ورزش کی کمی، اور اسٹریس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور یہی اس بیماری سے نمٹنے کا حل بھی ہے۔

اگر آپ نے میرا پچھلا مضمون دواؤں سے دوری کیوں ضروری ہے پڑھا ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ میں صرف دواؤں پر انحصار کرنے کے بجائے بیماری کی جڑ تک پہنچنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہوں۔ دواؤں سے آپ سامنے نظر آنے والی علامات کو ختم کر سکتے ہیں لیکن دوائیں انہیں واپس سر اٹھانے سے نہیں روک سکتیں۔لہٰذا آئیں ہم ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات جانتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کس طرح ان سے نمٹا جا سکتا ہے۔کھانے کے وقت ہر چیز حصوں میں کھائیں، خاص طور پر گوشت، روٹی، اور چاول۔ کھانے میں گوشت آپ کی ہتھیلی سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے (مردوں کے لیے دو) اور اجناس اور نشاستہ ایک ہاتھ سے زیادہ نہیں (مردوں کے لیے دو) ہونا چاہیے۔ باقی کی کیلوریز آپ کو سبزیوں سے حاصل کرنی چاہیئں۔دوپہر کو سونا بلڈ پریشر کم کرنے کے لیے فائدہ مندتحقیق یہ ثابت کرتی ہے

کہ وزن گھٹانے سے بلڈ پریشر اعتدال پر آتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر کے لیے تجویز کردہ دواؤں کی مقدار میں بھی کمی آتی ہے۔سوڈیم-پوٹاشیم کا بلند تناسب پوٹاشیم اور سوڈیم ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور جسم میں پانی اور نمکیات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ان دونوں کو متناسب رکھنا ضروری ہے۔ اگر ایک بڑھ جاتا ہے تو دوسرا لازماً کم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے جسم میں بہت زیادہ سوڈیم ہے، تو ڈاکٹرز آپ کو اکثر پوٹاشیم کی دوائیں دیں گے تاکہ آپ کا سوڈیم پیشاب کے ذریعے خارج ہوجائے۔ غذا میں پوٹاشیم شامل کرنے کے لیے کیلے، ٹماٹر، شکر قندی، پھلیاں، دالیں، کھجوریں، اور ناریل کا پانی زیادہ استعمال کریں۔